تحریر فیض اللہ خان
میں نہیں جانتا کہ حلب کا یہ ننھا شہزادہ آج کہاں ہوگا ؟ ہوگا بھی یا نہیں ؟
یہ تصویر معصومیت جدوجہد اور آزادی کی جنگ کا دلکش عنوان ہے دو ہزار سولہ میں شامی مزاحمت اس درجہ کو پہنچ چکی تھی کہ حلب آزاد کرا لیا گیا تھا مگر پھر روسی بمباری اور ایرانی دستوں نے پانسہ پلٹ دیا++
میں نہیں جانتا کہ حلب کا یہ ننھا شہزادہ آج کہاں ہوگا ؟ ہوگا بھی یا نہیں ؟
یہ تصویر معصومیت جدوجہد اور آزادی کی جنگ کا دلکش عنوان ہے دو ہزار سولہ میں شامی مزاحمت اس درجہ کو پہنچ چکی تھی کہ حلب آزاد کرا لیا گیا تھا مگر پھر روسی بمباری اور ایرانی دستوں نے پانسہ پلٹ دیا++
Comments
خیر اس ننھے حلبی شہزادے کی کہانی کچھ یوں ہے کہ جب حلب پہ روسی بمباری شروع ہوئی تو انقلابی ٹائروں کے ڈھیر کو نذر آتش کرتے جسکے دھویں سے نچلی پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹروں کو کچھ دشواری ہوتی++
اے میرے پیارے شہزادے ، تجھے بھی حلب کی آزادی مبارک تجھے حمص مبارک تجھے دمشق مبارک تجھے بلاد الشام مبارک