لوگ احساس کی روندی ہوئی گلیوں میں قتیل
پھینک دیتے ہیں تعلق کو پرانا کر کے
قتیل شفائی
پھینک دیتے ہیں تعلق کو پرانا کر کے
قتیل شفائی
Comments