Profile avatar
miabayub.bsky.social
میں کون ہوں کیا ہوں میں یہی سوچ رہا ہوں صورت میں مقید ہوں مگر بکھرا ہوا ہوں
18 posts 335 followers 277 following
Regular Contributor

میں تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا تم تو دریا تھے مری پیاس بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے راحت اندوری

ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ورنہ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے

جب کبھی خود کو یہ سمجھاؤں کہ تو میرا نہیں مجھ میں کوئی چیخ اُٹھتا ہے ، نہیں ، ایسا نہیں کب نکلتا ہے کوئی دل میں اُتر جانے کے بعد اس گلی کے دوسری جانب کوئی رستہ نہیں خورشید رضوی

Allah

حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں قیامت تک آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ #Repost

‏جو عورت اپنے سنگار کے پیسوں سے کتاب خرید کر پڑھتی ہے وہ معاشرے میں عظیم لوگوں کو جنم دیتی ہے۔

بسم ﷲ الرحمن الرحیم إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا #Darood

جانے کب لوٹ کر آ جائے بچھڑنے والا اسی امید پہ دروازہ کھلا رکھا ہے

جسم سے بوڑھے بوڑھے لگتے ہیں اور جذبات سے جوان ہیں ہم عادل لکھنوی

السلام علیکم وسدا ریوے میرا سوہنڑا پاکستان

bsky.app/profile/murs...

@urdupoetry1.bsky.social ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے

@urduvirsa.bsky.social بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

مجھے خطرہ آتش گل سے ہے #QaisarThethia #Urdu #poetry

بے بس ہوں میں اے مجھ سے ضیا مانگنے والو میں دیپ تھا جلنے سے مگر پہلے بجھا ہوں پریمیؔ مجھے اس بات کا خود علم نہیں ہے وہ کون ہے میں جس کے خیالوں میں گھرا ہوں

میں کون ہوں کیا ہوں میں یہی سوچ رہا ہوں صورت میں مقید ہوں مگر بکھرا ہوا ہوں تاحد نظر میرے سوا کوئی نہیں ہے میں جیسے کسی درد کے صحرا میں کھڑا ہوں یہ بات مری سوچ سے باہر ہے ابھی تک میں کوہ تھا پھر کیسے سمندر میں بہا ہوں یہ سچ ہے کسی کا ہوں میں مطلوب نہ طالب حیراں ہوں کہ کس واسطے دنیا میں جیا ہوں