اور آہستہ کیجیۓ باتیں
دھڑکنیں کوئی سن رہا ہو گا

لفظ گرنے نہ پائے ہونٹوں سے
وقت کے ہاتھ ان کو چن لیں گے

کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار
راز کی ساری بات سن لیں گے!!!

Comments