اور آہستہ کیجیۓ باتیں
دھڑکنیں کوئی سن رہا ہو گا
لفظ گرنے نہ پائے ہونٹوں سے
وقت کے ہاتھ ان کو چن لیں گے
کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار
راز کی ساری بات سن لیں گے!!!
دھڑکنیں کوئی سن رہا ہو گا
لفظ گرنے نہ پائے ہونٹوں سے
وقت کے ہاتھ ان کو چن لیں گے
کان رکھتے ہیں یہ در و دیوار
راز کی ساری بات سن لیں گے!!!
Comments
کمنٹ ضرور کریں شکریہ ۔۔۔
گذری رفاقتوں کی نمی آنکھوں میں لئے
چپ چاپ ، سوگوار، تجھے سوچتے رہے
مجھے تو اس کے سوا، کچھ نظر نہیں آتا
گذری رفاقتوں کی نمی آنکھوں میں لئے
اک شخص تیرے شہر سے تنہا گذر گیا
wah
لگتا ہے تو چوٹ بہت گہری ہے
بہترین شاعری
کھینچ کر لاتی ہے اس کوچہ میں لاچاری مجھے
ورنہ اس کو وہ مقام دیتے کہ سارا زمانہ جلتا
دوریوں کا کہیں نشاں نہ رہے
ایسے اک دوسرے میں گم ہو جاٸیں
فاصلہ کوٸی درمیاں نہ رہ جاۓ
پھرسے ایک بار رُلادوں تُجھے جاتے جاتے
تو جانتا ہے مجھے چپ سنائی دیتی ہے
دانش نقوی